دو لاین والی شاعری
Poet: M,masood By: M,masood, Nottingham(51)
ہاں مجھے رسم محبت کا سلیقہ ہی نہیں
جا تجھے کسی اور کا ہونے کی اجازت ہے
(52)
یہ ضروری تو نہیں کہ ہر کوئی پاس ہو مسعود
کیونکہ زندگی میں یادوں کے سہارے بھی ہوتے ہیں
(53)
ہر ساگر کے دو کنارے ہوتے ہیں مسعود
کچھ لوگ جان سے بھی پیارے ہوتے ہیں
(54)
ہیں زمانے کی نظر میں برا تو کیا ہوا
زمانے والے انسان ہیں خدا تو نہیں
(55)
کبھی اشک پلکوں پر رُوک گیے
کبھی میں نے دریا بہا دیا مسعود
(56)
تمھیں زندگی کی ہے آرزو
مجھے زندگی نے مھٹا دیا
(57)
اُسے اُس کی جگہ دیکھوں اُسے تیری جگہ دیکھوں
بتا مجھے اے مسعود اُسے کس کی جگہ دیکھوں
(58)
آنکھوں میں اشکوں کا سمندر ہے مسعود
لگتا ہے کوئی پتہ شاخوں سے ٹوٹ رہا ہے
(59)
اُسے کَہنا کہ میرے مرنے پر کبھی آنسو نہ بہاۓ مسعود
کہ مجھے اپنی موت سے زیادہ اُس کے آنسو کا دُکھ ہو گا
(60)
میرے نصیب کا کھیل آج نرالا ہو گیا ہے مسعود
گھر میرا جلا اور کہیں اُجالا ہو گیا ہے
تم ہم سے منانے کی بات کیوں کرتے ہو
ہم یونہی پیار کر لیتے ہیں تمھیں
ہمیں تڑپانے کی بات کیوں کرتے ہو
اس بے رخی میں کتنی محبت ہے چھپی
پیار ہے پھر ترسانے کی بات کیوں کرتے ہو
باتیں ساری تم سے وابستہ اچھی لگتی ہیں
کیوں نہیں انھیں دھرانے کی بات کرتے ہو
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے
پھر بینا سے آزمانے کی بات کیوں کرتے ہو
انکھیوں میں تمھیں چھپا کے
پرستان تمھیں لے جا کے
رکھیں گے اپنا بنا کے
سنگ ہونگے نکاح سے
ہم اللہ کو گواہ بنا کے
خوشیاں منا کے
گھر تم سے بسا کے
چاند کی ٹھنڈک میں
مدھم مدھم روشنی میں
ہلکی ہلکی بارش میں
روپہلی دھوپ سنہری میں
ہولے ہولے دل ڈھڑ کتے
دھیرے دھیرے سانس چلتے
چاہت میں ڈوبے ڈوبے
اک دوسرے سے پیار کرتے
آپ کی شہد سی میٹھی باتوں میں کھوئے رہیں گے
بینا آپ کے ہوکے ہم آپ کے ہی ہوئے رہیں گے






