دِل کا اُس نے چھولیا پاتال جانے کِس طرح
Poet: Azra Naz By: Azra Naz, Reading UKدِل کا اُس نے چھولیا پاتال جانے کِس طرح
پا لیا اُس نے مرا احوال جانے کِس طرح
ایک لمحہ اب تمہارے بن گذر تا ہی نہیں
اب تلک گذرے ہیں ماہ و سال جانے کِس طرح
وارداتِ قلب تجھ پہ اب تلک گذری نہیں
تو مرے دیوانے دِل کا حال جانے کِس طرح
میں تو سمجھی تھی کہ ہر لمحہ مری مٹھی میں ہے
چل گیا پر وقت اپنی چال جانے کِس طرح
کل تو تھا وہ شخص میری ذات کا حصہ مگر
کر دیا اُس نے یہ دِل پامال جانے کِس طرح
ریشمی دھاگے سے جِس پہ نام کاڑھا تھا ترا
کھو گیا مجھ سے وہی رومال جانے کِس طرح
زندگی بھر کے لیے اپنا بنا کے رکھ لیا
اُس نے پھینکا چاہتوں کا جال جانے کِس طرح
کل تلک جو شخص تھا سب سے بڑا دُشمن مِرا
بن گیا وہ آج میری ڈھال جانے کِس طرح
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad







