دِل کے رشتے
Poet: UA By: UA, Lahoreتم ہمیں بھول کیوں نہیں جاتے۔۔۔؟
ہم تمہیں بھول ہی نہیں پاتے۔۔۔!
تم ہمیں چھوڑ کیوں نہیں جاتے۔۔۔؟
ہم تمہیں چھوڑ ہی نہیں پاتے۔۔۔!
توڑنے کے لئے نہیں بنتے
چھوڑنے کے لئے نہیں بنتے
دِل سے جڑتے ہیں تو جڑ جاتے ہیں
عمر بھر ساتھ پِھر نبھاتے ہیں
جو دِل کے رشتے جڑے جاتے ہیں
کہاں وہ رشتے چھوڑے جاتے ہیں
یہی وجہ ہے مہربان میرے
یہ حقیقت ہی مہربان میرے
ہم تمہیں بھول ہی نہیں پاتے۔۔۔!
ہم تمہیں چھوڑ ہی نہیں پاتے۔۔۔!
تم ہمیں بھول کیوں نہیں جاتے۔۔۔؟
ہم تمہیں بھول ہی نہیں پاتے۔۔۔!
تم ہمیں چھوڑ کیوں نہیں جاتے۔۔۔؟
ہم تمہیں چھوڑ ہی نہیں پاتے۔۔۔!
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






