دکھا کے پھول وہ مجھ کو۔۔۔۔۔
Poet: m.asghar mirpuri By: m.asghar mirpuri, birminghahamدکھا کہ پھول مجھے وہ خار دیتا ہے
اب تو قسطوں میں دیدار دیتا ہے
مجھ سے ملنے کا وعدہ نہیں کرتا کبھی
ہاں فون پہ گپ شپ مار دیتا ہے
پہلے آسماں پہ چڑھاتا ہے چکنی باتوں سے
پھر جلی کٹی سنا کہ نیچے اتار دیتا ہے
زندگی بھر دولت کے سوا کچھ نہ دیا مجھے
اب نئے دوستوں کو سود پہ ادھار دیتا ہے
اصغر کی گلی سے وہ گزرتا ہے جب
اپنی پیاری اداؤں سے مجھے مار دیتا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






