دکھ تو ہوتا ہے نا جب کوئی میرا اپنا نہ ہو
Poet: By: habib ganchvi, islamabadزندگی اًونچ نیچ کا ایک کٹھن سلسلہ ہے
کبھی ہنسی خوشی کبھی درد کا راستہ ہے
ناکردہ گناہوں کا بس ایک صلہ ہے
کبھی شام تلک سوکھے پتّوں پے سوتا رہا
کبھی چاند کے آنگن میں راتوں کو جاگتا رہا
اور کبھی چپ چاپ چلتا رہا ۔۔چلتا رہا
کہیں تاریک راہوں میں سرپٹ گزرتا رہا
کہیں سورج تلے رہ گزر میرا راستہ رہا
اور کبھی بیٹھے بیٹھے یونہی دن گزرتا رہا
کبھی خود سے لڑکر جو میں رو پڑا
کبھی چلتے چلتے کہیں میں کھو پڑا
کبھی آنکھ میں آنسو بھرا یونہی سو پڑا
کبھی دل کر ے کہ کوئی پاس ہو کہ مجھ کو منائے
مجھ پے غصّہ کرے میرے زخموں پے مرہم بھرے
کبھی لڑپڑے پھر گلے لگ کے آہیں بھرے
کاش کسی آنکھ میں آنسو ہو میرے لئے
کوئی گھر کی چوکھٹ پے گھنٹوں کھڑے
انتظار میرا کرے میرا راستہ تکے
کیسے گزرتا ہے رات دن کوئی پوچھنے والا نہ ہو
کوئی میرا اپنا نہ ہو مجھ کو سوچنے والا نہ ہو
دکھ تو ہوتا ہے نا جب کوئی میرا اپنا نہ ہو
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






