دکھ تو ہوتا ہے نا جب کوئی میرا اپنا نہ ہو
Poet: By: habib ganchvi, islamabadزندگی اًونچ نیچ کا ایک کٹھن سلسلہ ہے
کبھی ہنسی خوشی کبھی درد کا راستہ ہے
ناکردہ گناہوں کا بس ایک صلہ ہے
کبھی شام تلک سوکھے پتّوں پے سوتا رہا
کبھی چاند کے آنگن میں راتوں کو جاگتا رہا
اور کبھی چپ چاپ چلتا رہا ۔۔چلتا رہا
کہیں تاریک راہوں میں سرپٹ گزرتا رہا
کہیں سورج تلے رہ گزر میرا راستہ رہا
اور کبھی بیٹھے بیٹھے یونہی دن گزرتا رہا
کبھی خود سے لڑکر جو میں رو پڑا
کبھی چلتے چلتے کہیں میں کھو پڑا
کبھی آنکھ میں آنسو بھرا یونہی سو پڑا
کبھی دل کر ے کہ کوئی پاس ہو کہ مجھ کو منائے
مجھ پے غصّہ کرے میرے زخموں پے مرہم بھرے
کبھی لڑپڑے پھر گلے لگ کے آہیں بھرے
کاش کسی آنکھ میں آنسو ہو میرے لئے
کوئی گھر کی چوکھٹ پے گھنٹوں کھڑے
انتظار میرا کرے میرا راستہ تکے
کیسے گزرتا ہے رات دن کوئی پوچھنے والا نہ ہو
کوئی میرا اپنا نہ ہو مجھ کو سوچنے والا نہ ہو
دکھ تو ہوتا ہے نا جب کوئی میرا اپنا نہ ہو
سنبھال رکھنا میری وفا
ملو گے کب یہ تو بتا دوں
اے بتانے والے دو گا دعا
میری ہے تم سے اک التجا
پکار میری تم نے نہ سنی
دیتا رہا ہو بہت بار صدا
میری تم بن گئیں ہو ضد
لیکن لگتا تم کرو گی جفا
تم مل جاؤ اگر اے جاناں
کیونکہ میری اسی میں بقاء
اتنا یقیں ہو گیا ہے مجھے زیب
اس محبت کی تم دو گی سزا
سنتے بھی ہو کے سماعت سے محروم ہو
پہلے تو چلے آتے تھے کسی بہانے سے
اب تو منہ موڑ کے چلے جاتے ہو
کچھ یو ہی سہی صیح میرے مقدر کا قصور ہے
اب جو آتے بھی ہو اور بغیر ملے چلے جاتے ہو
تم سے مل کر اچھا لگتا تھا زیب
کھبی کھبی بے وفا مقدر کے بہانے یاد آجاتے ہو
عمر میں کچھ روانی تو آنے دیتا۔
مُجھے بات کرنے کا ڈھنگ نہ آیا،
زباں پر کچھ روانی تو آنے دیتا۔
وہ مستقبل کے خوب لئیے چلا گیا،
آخر کوئی بات پرانی تو آنے دیتا۔
اگر سچا ہوتا تو صرف باتیں نہ کرتا،
کبھی اپنی کوئی مہربانی تو آنے دیتا۔
یک دم مسکرا کے چلا گیا وہ شخص،
چہرے پہ کچھ حیرانی تو آنے دیتا۔
اسی انتظار میں مجھ سے دیر ہوئی،
" شمس" ،
محبت کی کوئی نشانی تو آنے دیتا۔






