دھرتی کی خاک میں
Poet: Kaiser Mukhtar By: Kaiser Mukhtar, HONG KONGگردوں کی گردشوں میں کہیں کھو گیا ہوں میں
دھرتی کی خاک میں کہیں گم ہوگیا ہوں میں
لب ساحل کھڑا ہوں لیکن منزل ملے نہ مجھ کو
دلدل میں دھنس رہا ہوں کہ ساحل ملے نہ مجھ کو
شب غم نے آن گھیرا تلاش وصال میں
جانے کتنی صدیاں بیتیں اب ان ماہ و سال میں
خوابوں کو کھوجتا ہوں کہ ہوں دور منزلوں سے
منزل میری ہے لیکن کہیں دور ساحلوں سے
اک حاصل منزل چھوڑ آیا سپنوں کی تلاش میں
اپنی جنت کو بھول گیا اس سلسلہ معاش میں
بہت پیچ دار معاملہ ہے روزگار کا
نازک بہت ہے قیصر رشتہ اعتبار کا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







