دھرتی ہلا کے رکھ دوں گی وشمہ دھمال سے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملائیشیاوشمہ میں کیا کروں ترے حزن و ملال سے
رہتی ہے جنگ اپنے ہی ذہہن خیال سے
جب تیرا کرب میری نگاہوں میں بس گیا
اب واسظہ نہیں ہے کسی ماہ و سال سے
بیٹھی ہوئی ہوں کب سے قیامت کی منتظر
چہرے کا رنگ زرد ہوا ہے ملال سے
یوں دیکھتے ہی دیکھتے یہ عمر کٹ گئی
کتنی گزر گئی ہوں میں عجلت میں حال سے
اس دل میں تیرے پیار کی دنیا سمٹ گئ
خود کو سنبھال رکھا ہے میں نے کمال سے
اب زندگی پہ پیار کا نغمہ نہیں رہی
اب واسظہ نہیں ہے کسی سر کی تال سے
جو میری آنکھ کا کبھی تارا بنا رہا
اس کو چھپا لیا ہے وفاؤں کی شال سے
ڈھل جائے کاش میری فقیری میں زندگی
دھرتی ہلا کے رکھ دوں گی وشمہ دھمال سے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






