دھرتی سے آ کاش تلک سب تنہا تنہا لگتا ہے
Poet: Azra Naz By: Azra Naz, Reading UKدھرتی سے آ کاش تلک سب تنہا تنہا لگتا ہے
جِس آ نگن میں پھول نہ ہوں وہ آ نگن سوُنا لگتا ہے
سوُکھے پھول اور بند کتابیں کیا منظر کرتی ہیں پیش
سارے شہر پہ جیسے اِک آسیب کا سایہ لگتا ہے
کتنا اچھا ہوتا دِل ارمانوں سے خالی ہوتا
دِل میں کتنے ارمانوں کا روز تماشہ لگتا ہے
کوئی بھی ہو رنگ بیاں کا کتنی ہی گلکاری ہو
ہر اِک باب کتابِ دِل کا سادہ سادہ لگتا ہے
یہ بھی شاید اپنے رِشتے کا ہی ایک تقاضہ ہو
تیرا ہر اِک کام مجھے خود کرنا اچھا لگتا ہے
ہو جاتا ہے ہر اِک منظر روشن تیرے ہونے سے
توُ نہ ہو تو ہر اِک منظر پھیکا پھیکا لگتا ہے
حسن نکھر جاتا ہے شب کا جھلمل جھلمل تاروں سے
شب کے چہرے پر تاروں کا سہرا اچھا لگتا ہے
آج نئی کیا بات ہوئی ہے عذراؔ کیا معلوم مجھے
آج تو موسم کا چہرا بھی نِکھرا نِکھرا لگتا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






