دھوپ ہو یا چھاؤں ہو
Poet: By: Nighatara, lahoreدھوپ ہو یا چھاؤں ہو
تم ساتھ نبھایا کرنا
میرے چہرے پہ سدا
پلکوں کا سایہ کرنا
صبح و شام میں
دیکھوں گا تمہاری راہیں
کبھی جلدی تو کبھی دیر
سے آیا کرنا
ڈانٹ لینا ساری محفل کو
کوئی بات نہیں
پھر تنہائی میں مجھ کو
منایا کرنا
جان جاؤں گا میں
خوشبو سے تمہاری تم کو
تم پیچھے سے آکر میری
آنکھوں کو چھپایا کرنا
جاگنا چاہو تو شب بھر
باتیں کرنا
نیند آجائے تو سینے پہ
سلا لینا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






