دھڑکنیں محبت کی دل نشین خاموشی
Poet: Nazir Waheed By: waheed, Islamabadدھڑکنیں محبت کی دل نشین خاموشی
مرحبا اے ہنگامو آفرین خاموشی
کج بیاں ٹھکانوں سے دور اک خرابے میں
گھر بنا کے رہتی ہے اک ذہین خاموشی
شام ہے یہ وعدے کی عشق کے ارادے کی
اک جواں سا سناٹا اک حسین خاموشی
سامنے جو آ جاؤں کیفیت حیا کی پھر
ٹانک دے گی پلکوں پر نازنین خاموشی
ٹوٹ کر جو بکھروں گا دیکھ لے گی دنیا پھر
اک مکاں محبت کا اور مکین خاموشی
گفتگو تو تجھ سے تھی روبرو میں خود سے تھا
اک فلک سا ہنگامہ اک زمین خاموشی
بے وفا خیالوں سے زخم کے حوالوں سے
کیا سوال کرتی پھر وہ حسین خاموشی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






