دیئے گلوں کے جلے پھر، آمدِ بہار کے ساتھ
Poet: عین رحمٰن By: عین رحمٰن, ایبٹ آباددیئے گلوں کے جلے پھر، آمدِ بہار کے ساتھ
شگوفے دل کے کھلے امیدِ وصلِ یار کیساتھ
دلِ حزیں نے دکھائے وہ دن ، خدا کی پناہ
نہ شب سکوں سے،کٹا کوئی دن قرار کیساتھ
ہمیں گلہ بھی نہیں تیری بے رخی کا , کبھی
کریں گے شکوے گلے اپنے کرد گار کے ساتھ
وفا تو شیوہ نہیں یوں بھی مہ رخوں کا ، کوئی
نہیں جوازِ ترحّم ،مرے صیاد کا شکار کے ساتھ
شیوخِ شہر سے کہہ دو یہ میکدہ ہے یہاں
قیودِ حفظِ مراتب کہاں ، خمار کے ساتھ
مثالِ یوسفِ کنعاں ، ہمیں برادرانِ عزیز
سپردِ چاہ ، کریں گے اُسی وقار کے ساتھ
ہمیں بھی چین نہیں تیری نفرتوں کے بغیر
تمہیں بھی اُنس سا ہونے لگا ہے پیار کے ساتھ
عنایت اُن کی نظر میں عجب کرامت تھی
کہ دل کو چین بھی ملتا رہا غبار کے ساتھ
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






