دیارِ عشق میں قدم رکھتے ہی کانپ گیا
Poet: NEHAL INAYAT GILL By: NEHAL, Gujranwalaخالی زندگی میں تری صدائیں گونجنے لگیں
دل رونے لگا اور آہیں گونجنے لگیں
دیارِ عشق میں قدم رکھتے ہی کانپ گیا
جیسے میرے گرد کچھ بلائیں گونجنے لگیں
جیسے تمام نگر میں مَیں اکیلا ہی رہ گیا
میرے دل سے آج دعائیں گونجنے لگیں
سولی پے چڑھائے گئے ارمان دل کے
میرے کانوں میں میری سزائیں گونجنے لگیں
صاف سنائی دے رہی تھی تری قسم
ترے نام کے سنگ ہوائیں گونجنے لگیں
سرسری سی آہٹ سُنائی دی تری مجھے
میرے اندر کی تمام جائیں گونجنے لگیں
نہال شاید کہ اُس نے نام لیا ہے میرا
غور سے سنو! کہ فضائیں گونجنے لگیں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






