دیدار
Poet: Syed Zulfiqar Haider By: Syed Zulfiqar Haider, Nizwa, Omanاک آس لگاۓ بیٹھے ہیں تیرا دیدار کبھی تو ہو گا
تیرے چاہنے والوں میں میرا شمار کبھی تو ہو گا
چاہت کے سلسلے اور بھی ہو جایئں گے حسین
دل میں آپ کے میری محبت کا غبار کبھی تو ہو گا
اپنی سوچوں میں مجھے قید کر لو اتنا قریب کر لو
رلفیں بکھیرو میرے شانوں پر زلفوں کا اسیر کر لو
صورت دکھا کر اپنے حُسن کا مجھے دل گیر کر لو
تیرے ہونٹوں سے میری چاہت کا اقرار کبھی تو ہو گا
میرے آنگن میں آمد سے روشنی بکھیر تو سہی
میری تنہائی سمیٹ پیار کی بوند دے تو سہی
ہونٹوں کی پیاس بجھا جامِ اُلفت آنکھوں سے پلا تو سہی
تیری نگاہوں سے چاہت کا گمان کبھی تو ہوگا
تیرے ملنے کی آس میں گائل سا ہو گیا ہوں
آنکھیں تیرے انتطار میں کب سے اشکبار ہیں
چین اُڑ گیا ہے قسمت تو جیسے روٹھ گئی ہو مجھ سے
ذوالفقار کے لیئے تیرا بھی دل بے قرار کبھی تو ہو گا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






