دیوانگی
Poet: Shabeeb Hashmi By: Shabeeb Hashmi, Al-Khobar KSAدیوانگی میں اسکو سلام صبح و شام لکھتا رہا
موسموں کے ہر ورق پہ اس کو پیغام لکھتا رہا
وہ میرے جنوں کی معراج کو جان لے اسی لیے
میں شہر بھر کی دیواروں پہ اس کا نام لکھتا رہا
اس کی آرزو تھی کہ یہ بھول جاؤں اسکو میں
وہ راستہ بدلتا رہا اور میں کہرام لکھتا رہا
مہ خانے میں شور تھا ساقی کے پیمانے کا مگر
لیکن میں اسکی نظروں کو ہر لمحے جام لکھتا رہا
مزاج ہے یہ عشق کا ظلم کو ہنس کر سہہ سکیں
وہ انتہا کرتا رہا اور میں غلام لکھتا رہا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






