دیوتا
Poet: ڈاکٹر یوسف شاہد By: yousaf shahid, lahoreمیں نے سب عقیدت کے
پھول تجھ پہ وار دِ یے
کتنے سال جیون کے
چاہ میں گزار دِیے
ہر خوشی کو بھول گئی
ہر کمی گوارا کی
لوگ پیار کرتے ہیں
میں نے تیری پوجا کی
دیوتاؤں کا لیکن اعتبار کیا کرنا
وہ جو دل سے پتھر ہوں
اُن سے پیار کیا کرنا
رشتۂ محبت کی تار بُن نہیں سکتے
داسیاں تو چنتے ہیں
ساتھ چُن نہیں سکتے
غم مرا جُدا تو نہ تھا
بس یہی اداسی تھی
تم بھی ایک پتھر تھے
میں بھی ایک داسی تھی
جو زباں ہے چاہت کی
وہ تُمہیں نہیں آتی
جو تمہاری فطرت ہے
وہ بدل نہیں پاتی
وعدۂ محبت کی ابتلا سے ڈرتے ہو
مان لو کہ بزدل ہو
تم وفا سے ڈرتے ہو
پتھروں کی چوکھٹ پر
زندگی بھی وار گئی
آدمی ہوئےنہ تم
دیوتا میں ہار گئی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







