دیکھا تو ہاتھ پہ یہی تحریر ہے ابھی
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملائیشیادیکھا تو ہاتھ پہ یہی تحریر ہے ابھی
اس زندگی کی آنکھ میں تنویر ہے ابھی
اب تو یہ میرا حُسن بھی جاتی بہار ہے
کیا اب بھی تیرے آنے میں تاخیر ہے ابھی
بچپن میں تو نے پیار سےدیکھا تھا ایک بار
دل میں وہ تیرے پیار کی تاثیر ہے ابھی
کیوں جا رہے ہو چھوڑ کے یادوں کے قافلے
ٹھہرو ذرا کہ پاؤں میں زنجیر ہے ابھی
اس زیست کے اندھیروں سے مایوس کب ہوں میں
صحنِ وفا میں چاند کی تنویر ہے ابھی
تم بھول کر بھی دیکھ لو پھولوں کی باس ہو
وشمہ تو تیرے ہجر میں دلگیر ہے ابھی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






