دیکھو ایسا عجب مسافر پھر کب لوٹ کے آتا ہے
Poet: صابر وسیم By: Anila, Sialkotدیکھو ایسا عجب مسافر پھر کب لوٹ کے آتا ہے
دریا اس کو رستہ دے کر آج تلک پچھتاتا ہے
جنگل جنگل گھومنے والا اپنے دھیان کی دستک سے
کوسوں دور اک گھر میں کسی کو ساری رات جگاتا ہے
جانے کس کی آس لگی ہے جانے کس کو آنا ہے
کوئی ریل کی سیٹی سن کر سوتے سے اٹھ جاتا ہے
میری گلی کے سامنے والے گھر کی اندھیری کھڑکی میں
اس لڑکی سے باتیں کر کے کوئی مجھے دہراتا ہے
کیسا جھوٹا سہارا ہے یہ دکھ سے آنکھ چرانے کا
کوئی کسی کا حال سنا کر اپنا آپ چھپاتا ہے
کچی منڈیروں والے گھر میں شام کے ڈھلتے ہی ہر روز
اپنے دوپٹے کے پلو سے کوئی چراغ جلاتا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






