د عا
Poet: naila rani By: naila rani, karachiیا رب پاس اپنے تو مجھ کو بلا کیوں نہیں لیتا
سات پر دوں میں چھپا ہے مجھ کو بھی چھپا کیوں نہی لیتا
تیر ے اک کن فیکن سے ملتی ہے فنا کو بقا پل بھر میں
تو اس د نیا کو پھر سے مٹا کر بنا کیوں نہیں دیتا
یاں دجل کا راج ہے اور چھا ئی ہے د جل سحر چار سو
تو ان مر جھا ئے ہو ئے پھو لوں کو شفا کیوں نہیں دیتا
سل مسلم کے آئنو ں پہ د ھول جمی ہے تو دھول کو یا رب
ا پنے کرم و عنا ئیت کی با رش سے د ھلا کیوں نہیں دیتا
ان پہا ڑوں کو غرور ہے ا پنی ید بیضا پر اس قدر
تو ا نکی جاہ و طا قت کو مٹی میں ملا کیوں نہیں د یتا
عرش معلیٰ سے ا تر یں ملا ئک بغدادو غزو قا بل پر یا رب
تو ان صفاک د ر ندوں کو صفا ہستی سے مٹا کیوں نہیں د یتا
اب تو د یکھے جا تے نہیں کفار کے جورو ستم یا رب
تو مجھے میری بے حسی کی بلآخر سزا کیوں نہیں دیتا
یا رب پاس اپنے تو مجھ کو بلا کیوں نہیں لیتا
سات پر دوں میں چھپا ہے مجھ کو بھی چھپا کیوں نہی لیتا
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






