ذرا سی باپ مِرا کیا زمین چھوڑ گیا
Poet: رشید حسرتؔ By: رشید حسرتؔ, Quettaذرا سی باپ مِرا کیا زمین چھوڑ گیا
ہیں سات بچے تو ازواج تین چھوڑ گیا
مُجھے مِلے تو میں اُس نوجواں کو قتل کروں
جو بد زباں کے لیئے نازنِین چھوڑ گیا
رہا جو مُفت یہ حُجرہؔ دیا سجا کے اُسے
مکاں کُشادہ تھا، لیکن مکین چھوڑ گیا
پِلایا دودھ بھی اور ناز بھی اُٹھائے، مگر
کمال سانپ تھا جو آستین چھوڑ گیا
پلٹ تو جانا ھے ھم سب کو ایک دن، یارو
مگر وہ شخص جو یادیں حسین چھوڑ گیا
میں اپنی تلخ مِزاجی پہ خُود ھُؤا حیراں
گیا وہ شخص تو لہجہ متین چھوڑ گیا
ابھی کی حق نے عطا کی ھے، کل کی دیکھیں گے
اب ایسی باتوں پہ کاہے یقین چھوڑ گیا؟
وہ ایک جوگی جو ناگن کی کھوج میں آیا
ھؤا کچھ ایسا کہ وہ اپنی بِین چھوڑ گیا
صِلہ خلوص و عقیدت کا مانگ سکتا تھا
جو ایک شخص زمیں پر جبین چھوڑ گیا
خدا کا خوف نہیں، وائرس کا تھا خدشہ
جسے بھی موقع ملا ھے وہ چِین چھوڑ گیا
کوئی مزے سے مِرا کھیل دیکھتا تھا رشیدؔ
مگر جو دیکھنے والا تھا سِین، چھوڑ گیا۔
سنبھال رکھنا میری وفا
ملو گے کب یہ تو بتا دوں
اے بتانے والے دو گا دعا
میری ہے تم سے اک التجا
پکار میری تم نے نہ سنی
دیتا رہا ہو بہت بار صدا
میری تم بن گئیں ہو ضد
لیکن لگتا تم کرو گی جفا
تم مل جاؤ اگر اے جاناں
کیونکہ میری اسی میں بقاء
اتنا یقیں ہو گیا ہے مجھے زیب
اس محبت کی تم دو گی سزا
سنتے بھی ہو کے سماعت سے محروم ہو
پہلے تو چلے آتے تھے کسی بہانے سے
اب تو منہ موڑ کے چلے جاتے ہو
کچھ یو ہی سہی صیح میرے مقدر کا قصور ہے
اب جو آتے بھی ہو اور بغیر ملے چلے جاتے ہو
تم سے مل کر اچھا لگتا تھا زیب
کھبی کھبی بے وفا مقدر کے بہانے یاد آجاتے ہو
عمر میں کچھ روانی تو آنے دیتا۔
مُجھے بات کرنے کا ڈھنگ نہ آیا،
زباں پر کچھ روانی تو آنے دیتا۔
وہ مستقبل کے خوب لئیے چلا گیا،
آخر کوئی بات پرانی تو آنے دیتا۔
اگر سچا ہوتا تو صرف باتیں نہ کرتا،
کبھی اپنی کوئی مہربانی تو آنے دیتا۔
یک دم مسکرا کے چلا گیا وہ شخص،
چہرے پہ کچھ حیرانی تو آنے دیتا۔
اسی انتظار میں مجھ سے دیر ہوئی،
" شمس" ،
محبت کی کوئی نشانی تو آنے دیتا۔






