ذرا سی باپ مِرا کیا زمین چھوڑ گیا
Poet: رشید حسرتؔ By: رشید حسرتؔ, Quettaذرا سی باپ مِرا کیا زمین چھوڑ گیا
ہیں سات بچے تو ازواج تین چھوڑ گیا
مُجھے مِلے تو میں اُس نوجواں کو قتل کروں
جو بد زباں کے لیئے نازنِین چھوڑ گیا
رہا جو مُفت یہ حُجرہؔ دیا سجا کے اُسے
مکاں کُشادہ تھا، لیکن مکین چھوڑ گیا
پِلایا دودھ بھی اور ناز بھی اُٹھائے، مگر
کمال سانپ تھا جو آستین چھوڑ گیا
پلٹ تو جانا ھے ھم سب کو ایک دن، یارو
مگر وہ شخص جو یادیں حسین چھوڑ گیا
میں اپنی تلخ مِزاجی پہ خُود ھُؤا حیراں
گیا وہ شخص تو لہجہ متین چھوڑ گیا
ابھی کی حق نے عطا کی ھے، کل کی دیکھیں گے
اب ایسی باتوں پہ کاہے یقین چھوڑ گیا؟
وہ ایک جوگی جو ناگن کی کھوج میں آیا
ھؤا کچھ ایسا کہ وہ اپنی بِین چھوڑ گیا
صِلہ خلوص و عقیدت کا مانگ سکتا تھا
جو ایک شخص زمیں پر جبین چھوڑ گیا
خدا کا خوف نہیں، وائرس کا تھا خدشہ
جسے بھی موقع ملا ھے وہ چِین چھوڑ گیا
کوئی مزے سے مِرا کھیل دیکھتا تھا رشیدؔ
مگر جو دیکھنے والا تھا سِین، چھوڑ گیا۔
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






