ذرا ہم بھی محبت کا مزہ چھک لیں تو اچھا ہے
Poet: Ahsan Mirza By: Ahsan Mirza, Karachiمحبت چیز ہے ایسی بنادیتی ہے انساں کو
بدل دیتی ہے پیمانِ وفا کے ہر پیماں کو
بنا دیتی ہے انساں کو بڑا ہی معتبر سب میں
بنا دیتی ہے انساں کو بڑا ہی دیدہ ور سب سے
سنا ہے ہر گھڑی، ہر لمحے یہ مسرور کرتی ہے
سنا ہے باتیں کرتے رہنے پہ مجبور کرتی ہے
سنا ہے ذائقہ اس کا بڑا مرغوب ہوتا ہے
سنا ہے لمحہ لمحہ سامنا، محبوب ہوتا ہے
سنا ہے لمحے بھر کی بھی محبت صدیاں جیتی ہے
سنا ہے زخم جتنے دل کے ہوں وہ زخم سیتی ہے
ذرا دیکھیں محبت کا مزہ کیا یہ سچا ہے
ذرا ہم بھی محبت کا مزہ چھک لیں تو اچھا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






