ذکر الفت ھے کچھ اپنی زبانی سنیئے
Poet: اسد رضا By: ASAD, MPK ذکر الفت ھے کچھ اپنی زبانی سنیئے
دل سے بہتر نہیں کوئی ترجمانی سنیئے
ہم کہاں تجھسے کوئی گلہ کرتے ہیں؟
فریاد دل ھے اپنے منہ زبانی سنیئے۔
اشک آنکھوں سے اپنے تھمتے نہیں۔
جناب کےغم کی ھے کارستانی سنیئے۔
آہ ! کیوں نہیں سنتے نالئہ غم اپنے ؟
کہ آپسے وابسطہ ھے قصہ کہانی سنیئے۔
چند لفظون میں بیاں کرتے ہیں اسد
کہ جناب پر نربھر ھے زندگانی سنیئے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






