راتیں دسمبر کی بہت تم یاد آتے ہو (گیت)
Poet: Dr.Zahid Sheikh By: Dr.Zahid Sheikh, Lahore Pakistanہر دم خیالوں میں مری جاں مسکراتے ہو
راتیں دسمبر کی بہت تم یاد آتے ہو
آتی نہیں اب نیند اور لگتا نہیں ہے دل
ہو جاؤ مجھ کو تم ہمیشہ کے لیے حاصل
چاہا ہے میں نے تم کو اپنی جان سے بڑھ کے
راہی ہوں میں الفت کا اور میری ہو تم منزل
یہ تو بتا دو کس لیے مجھ کو ستاتے ہو
راتیں دسمبر کی بہت تم یاد آتے ہو
بانہوں میں میری تم سمٹ آؤ تو چین آئے
دیکھو دسمبر کا مہینہ نہ گزر جائے
الفت کا موسم چھا رہا ہے دل میں ، آنکھوں میں
ٹھنڈی ہوا تن من میں کیسی آگ سلگائے
آنے کا وعدہ کر کے بھی تم بھول جاتے ہو
راتیں دسمبر کی بہت تم یاد اتے ہو
ہر دم خیالوں میں مری جاں مسکراتے ہو
راتیں دسمبر کی بہت تم یاد اتے ہو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







