رات گزرے گی تو رکھ لیں گے بھرم آج کے بعد
Poet: SHABEEB HASHMI By: SHABEEB HASHMI, Al-Khobarرات گزرے گی تو رکھ لیں گے بھرم آج کے بعد
ھم نہ آئیں گے کبھی شہر میں تیرے آج کے بعد
وہ تیرے شعروں اور غزلوں میں میرا کھو سا جانا
اب نہ پڑھ پائیں گے دیوان تیرے آج کے بعد
مجھ کو لفظوں میں سجا کے جو کبھی لکھے تھے
ھونٹ وہ گیت نہ گائیں گے تیرے آج کے بعد
شام آئیگی تو پھر چاند بھی بتلائے گا ہمیں
وہ نہ جھانکے گا کبھی گھر میں تیرے آج کے بعد
تیرے چہرے پہ میری نظروں نے جو باندھا تھا حصار
رخ روشن پہ نہ ھو گی وہ سحر تیرے آج کے بعد
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






