رات ہے میں ہوں اور تنہائی
Poet: محمد اختر شیخ By: mohammad akhtar shaikh, Karachiکیسی مشکل آن پڑی ہے، رات ہے میں ہوں اور تنہائی
ننید بھی مجھ سے روٹھ گئی ہے رات ہے میں ہوں اور تنہائی
آنکھیں کب تک روکیں انکو ، اشک چھلکنے پر ہیں بضد
ضبط کی منزل چھوٹ رہی ہے ، رات ہے میں ہوں اور تنہائی
کرب و اذیت رنج و تاسُف ، کون ہے جو محسوس کرے
یاد کسی کی بھول گئی ہے ، رات ہے میں ہوں اور تنہائی
ہر سو اک سناٹا چھایا ، گھر سے نکل کر جاؤں کہاں
باہر کا عالم بھی وہی ہے ، رات ہے میں ہوں اور تنہائی
گزری شب کا ذکر کروں کیا ، ہر شب کی تصویر وہی
اِمشب بھی پوچھو تو وہی ہے ، رات ہے میں ہوں اور تنہائی
اور کوئی دل ہو تو شاید ، اس منظر میں کھو جائے
چاندنی کیسی چٹکی ہوئی ہے ، رات ہے میں ہوں اور تنہائی
باہر تو خاموش ہے لیکن ، اندر بھی خاموشی میں
دل کی دھڑکن گونج رہی ہے ، رات ہے میں ہوں اور تنہائی
آپ کے دل پہ بیتے جو یہ ، ٹوٹ نہ جائیں پھر کہیئے
مجھ پر جو کچھ بیت رہی ہے ، رات ہے میں ہوں اور تنہائی
اپنی اپنی لے کر قسمت سب ہی جہاں میں آئے ہیں
اور میری قسمت میں یہی ہے ، رات ہے میں ہوں اور تنہائی
ایک ہی کھڑکی کھلی ہے چھوڑی کم ہو جائے کچھ تو گھٹن
گھر میں اداسی جھانک رہی ہے ، رات ہے میں ہوں اور تنہائی
جسکو بھلانے کی خاطر اس منزل پر پہنچ گیا
آنکھ اُس ہی ڈھونڈ رہی ہے ، رات ہے میں ہوں اور تنہائی
کچھ فرصت ہو اختر تو میں خود کو سمیٹوں اندر سے
ہر شے کیسی بکھری ہوئی ہے ، رات ہے میں ہوں اور تنہائی
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
تمہیں ہم سے ہے بےزاری، مان لیتے ہیں
ہماری جان لینے والو! اتنا جان رکھو
ہم اپنی جان بھی تم پر ہی وار دیتے ہیں
وقتِ مرگ میرے جنازے پہ آ کے دیکھو
جو روتے ہیں، انھیں ہم اب حساب دیتے ہیں
مری تربت پہ اتنے اشک نہ بہا پروین
ہمیں کافور کے غسل کا حکم دیتے ہیں
تم سے کن حالات میں کیسے محبت سے وفا نبھا رہا ہے کوئی
ہو گی قدر تمھیں اس وقت جب پتہ چلے گا ہماری چاہت کا
دیکھو ادھر اک نظر کس قدر پیار سے تم کو منا رہا ہے کوئ
جان ہے کہ جا ئے جا رہی ہے یونہی .
تمھاری بے رخی پہ دور جا رہا ہے کوئی .
کس قدر مشکل میں ہے جاں بینا تم ہی نہ جانو
بن کہے پیار سے پیار تم سے نبھارہا ہے کوئی






