رات بھر ہوتی رہی برسات دل جلتا رہا
Poet: Azra Naz By: Azra Naz, Reading UKرات بھر ہوتی رہی برسات دل جلتا رہا
دل پہ انجانا سا کوئی تیر سا چلتا رہا
وقت کے دریا سے لمحوں کے نہ موتی چن سکے
بے خبر ہم ، اور سورج عمر کا ڈھلتا رہا
کہ نہ پائے ہم اگرچہ کچھ مروت کے سبب
غیر کا آنا ترے در پر ہمیں کھلتا رہا
قافلہ چل بھی دیا رستے میں ہم کو چھوڑ کر
دور تک جانے کا سپنا ہاتھ ہی ملتا رہا
زیست کی مصروفیت میں کچھ پتہ تک نہ چلا
دل میں غم ناسور بن کر پھولتا پھلتا رہا
میں نے جس کو زندگی کی ہر امانت سونپ دی
سانپ بن کر آستیں میں وہ مری پلتا رہا
پاس میرے تھا اگر کچھ وہ تھا میرا حوصلہ
دشمنوں کی چھاتیوں پہ مونگ جو دلتا رہا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi








