راحتِ جاں
Poet: Tariq Iqbal Haavi By: Tariq Iqbal Haavi, Lahoreپہلے ہمقدم، پھر ہمسفر، پھر رازداں بنتا گیا
جس سے نہ تھی شناسائی، وہی میری پہچاں بنتا گیا
آنکھوں نے کی آنکھوں سے، یوں محبت کی ترجمانی
اک تعلق پُرخلوص ساپھر درمیاں بنتا گیا
پہلے پہل تھا بخشتا، میرے شعروں کو جاودانی
پھر یوں ہوا کہ وہ شخص تومیری زباں بنتا گیا
عجب معاملہ درپیش آیا، گلستاں سے کل گزرتے
جس گُل پہ نظر ٹھہری ، تیرا چہرہ وہاں بنتا گیا
اس شخص سے مراسم کچھ یوں بڑھ گئے حاوی
سکونِ چشم تھا پہلے وہ، پھر راحتِ جاں بنتا گیا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






