راز جو سینۂ فطرت میں نہاں ہوتا ہے
Poet: جگر مراد آبادی By: aftab, Islamabadراز جو سینۂ فطرت میں نہاں ہوتا ہے
سب سے پہلے دل شاعر پہ عیاں ہوتا ہے
سخت خوں ریز جب آشوب جہاں ہوتا ہے
نہیں معلوم یہ انسان کہاں ہوتا ہے
جب کوئی حادثۂ کون و مکاں ہوتا ہے
ذرہ ذرہ میری جانب نگراں ہوتا ہے
جو نظر کردۂ صاحب نظراں ہوتا ہے
اسی دیوانے کے قدموں پہ جہاں ہوتا ہے
جب کوئی عشق میں برباد جہاں ہوتا ہے
مجھ کو محسوس خود اپنا ہی زیاں ہوتا ہے
متزلزل ہے ادب گاہ محبت کی زمیں
کوئی دیکھے تو یہ ہنگامہ کہاں ہوتا ہے
کہیں ایسا تو نہیں وہ بھی ہو کوئی آزار
تجھ کو جس چیز پہ راحت کا گماں ہوتا ہے
دل غنی ہو تو ہر اک رنج بھی دل کی راحت
ذہن مفلس ہو تو ہر سود زیاں ہوتا ہے
امتحاں گاہ محبت میں نہ رکھے وہ قدم
موت کے نام سے جس کو خفقاں ہوتا ہے
یہی وہ منزل دشوار ہے جس منزل میں
ختم ہر مرحلۂ سود و زیاں ہوتا ہے
ہر قدم معرکۂ کرب و بلا ہے درپیش
ہر نفس سانحۂ مرگ جواں ہوتا ہے
ناز جس خاک وطن پر تھا مجھے آہ جگرؔ
اسی جنت پہ جہنم کا گماں ہوتا ہے
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے






