راز محبت چھپ نہ سکا
Poet: Haroon ur Rasheed uDas By: Haroon Ur Rasheed uDas, Muzaffarabadakوہ وقت ہی تھا ایسا کہ میں مجبور ہو گیا
دِل کہاں مانا۔ بس نہ چاہتے بھی میں دور ہو گیا
تماشہِ محبت کا تو کبھی گماں تک نہ تھا
رازِ محبت چھپ نہ سکا اور مشہور ہو گیا
چاہتیں پہلے بھی کچھ کم نہ تھی ہماری
بس زخم ِ جدائی جو سہا تو عشق ضرور ہو گیا
رکھا سنبھال سنبھال کہ جس چاہت کو ہر پل
قیامت وہ گھڑی تھی جب سب چُور چُور ہو گیا
بہکا نہیں کبھی میں جا کر مے کدے میں بھی
پِیا جو تیری آنکھوں کا نشہ میں شرابُور ہو گیا
سجدے رب کو٬ خیال تیرا٬ دُعائیں بس تیری
کیسا یہ عشق ہُوا میں رَبّ سے ہی دُور ہو گیا
تھاما جو ہاتھ اُس نے پھر مُجھے تنہا دیکھ کہ ہارونؔ
بِک گیا میں ایسے کہ بس اس کا ہی مشکُور ہو گیا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






