رانگ نمبر
Poet: Muhammad Hafeez Javed By: Hafeez Javed, Attockمیں نے لگایا رانگ نمبر کی اس نے ہیلو
کیا سلام، دیا جواب، ہو گئی ہم میں ہیلو ہیلو
کہا کہ میں ابھی بزی ہوں کل کو کرنا کال
مطلب دال میں کالا نہیں، کالی ہے ساری دال
اگلے دن کال لگائی، وہ منتظر جیسے بیٹھی تھی
لپک کے بولی میں ابھی فارغ ہو کے ہی بیٹھی تھی
ایسے لگا صدیوں سے مجھے وہ جانتی ہو
مجھ کو مجھ ہی سے زیادہ وہ پہچانتی ہو
اس کی باتوں کا نشہ تھا یا تھی کوئی ایسی بات
سو نہ سکا میں، کٹ گئی پلکوں میں ساری رات
ہم کو جیسے جیسے لو ہونے لگا
چرچا دھیرے دھیرے ہر سو ہونے لگا
محبت کا تھا عروج ہوئے کئی عہد وفا
پیار ہمارا بڑھا تو بس بڑھتا ہی گیا
محبت کی ہم نے ایسی مثال قائم کرڈالی
گر سوچے کوئی تو زندگی ہی بدل ڈالی
آج جاوید کی آنکھ کا وہ تارا ہے
میرا جیون ساتھی بڑا ہی پیارا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






