راہِ عشق
Poet: Bilal Muard Warsi By: bilal murad warsi, Karachiمحبت میں دل اس قدر بے قرار ہو جائے
غبارِ راہ ہٹ جائے دیدارِیار ہو جائے
بزمِ خیال میں روشن تجلی حسن و جمال رہے
چشمِ شوق کا عالم و بیخودی نثار ہوجائے
رک جائے رات کا پر ! وقت و لمحے
جب تلک میری نیا اب نہ پار ہوجائے
صنم خانہ بنا کر دل و جان اسمیں سجایا ہے
غزنوی نہ باہر کوئی ہو شیار ہوجائے
اب پلا دے ساقی بیٹھے ہیں رخِ جاناں کئے
رازونیاز کی باتیں منکشف کچھ اسرار ہوجائے
جنوں میں اب اٹھ کر چاک گریباں کر ڈالو
کوئی تیر چلے اب اور دل تار تار ہوجائے
بلال ! کا مدعا کیا ہے حسرت دیدارِ جلوہ نما
زندگی و موت سے اب عاشق فرار ہو جائے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






