راہ چاو پیار کا دیکھ رہا ہوں
Poet: mohammed masood By: mohammed masood , nottinghamراہ چاو پیار کا دیکھ رہا ہوں
پہرا ہے وہاں روتی ہیں آنکھیں
میں نے لگائی اپنے سکون واسطے
بدلےالٹا دکھ مصیبت سہتی ہیں آنکھیں
ترستی ہیں اَس کے دیدار کے واسطے یہاں
ایک پلک نہیں کرتی ہیں آرام چین آنکھیں
ہر وقت ہر پل رونا اَس کی یاد میں
یہ بے چاری بے قصور ہیں آنکھیں
چلتا نہیں ہے کوئی زور میرا یہاں
روتی ہیں روتی جاتی ہیں آنکھیں
راہ پیار میں مل جائیں اگر تارے
تارے گنتے رات گنواتی ہیں آنکھیں
کب آۓ گا دنیا کا چاند ایہاں اوہاں
چکور کی طرح گبھراتی ہیں آنکھیں
جلتی بجھتی آگ کی طرح ایہاں اوہاں
درشن چاہ پیار کا جب پاتی ہیں آنکھیں
چاو پیار کی خوشی دیکھ کر یہ
دیکھ کر خوشی ہو تی حیران ہیں آنکھیں
نشہ حَسن کا پی کے مست ہوتی ہیں
پھول نرگس کے دونوں بچھاتی ہیں آنکھیں
لاکھوں عاشق بے ہوش ہو جاتے ہیں کیوں
جب کریں جدھر بھی ذرا بھی دھیان آنکھیں
مسعود میں ہمیشہ ایک چیز کہوں بارہا
کہ ہاں بلکہ لٹیاتی سارا جہان ہیں آنکھیں
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






