رباعيات اقبال
Poet: Allama Iqbal By: Shahzad Shameem, Abbottabadمیری شاخ امل کا ہے ثمر کيا
میری شاخ امل کا ہے ثمر کيا
تیری تقدير کی مجھ کو خبر کيا
کلی گل کی ہے محتاج کشود آج
نسيم صبح فردا پر نظر کيا
فراغت دے اسے کار جہاں سے
فراغت دے اسے کار جہاں سے
کہ چھوٹے ہر نفس کے امتحاں سے
ہوا پيری سے شيطاں کہنہ انديش
گناہ تازہ تر لائے کہاں سے
دگرگوں عالم شام و سحر کر
دگرگوں عالم شام و سحر کر
جہان خشک و تر زير و زبر کر
رہے تيری خدائی داغ سے پاک
میرے بے ذوق سجدوں سے حذر کر
غريبی ميں ہوں محسود اميری
غريبی ميں ہوں محسود اميری
کہ غيرت مند ہے ميری فقيری
حذر اس فقر و درويشی سے، جس نے
مسلماں کو سکھا دی سر بزيری
خرد کی تنگ دامانی سے فرياد
خرد کی تنگ دامانی سے فرياد
تجلی کی فراوانی سے فرياد
گوارا ہے اسے نظارہ غير
نگہ کی نا مسلمانی سے فرياد
کہا اقبال نے شيخ حرم سے
کہا اقبال نے شيخ حرم سے
تہ محراب مسجد سو گيا کون
ندا مسجد کی ديواروں سے آئی
فرنگی بت کدے ميں کھو گيا کون
کہن ہنگامہ ہائے آرزو سرد
کہن ہنگامہ ہائے آرزو سرد
کہ ہے مرد مسلماں کا لہو سرد
بتوں کو ميری لادينی مبارک
کہ ہے آج آتش 'اللہ ھو، سرد
حديث بندہ مومن دل آويز
حديث بندہ مومن دل آويز
جگر پر خوں، نفس روشن، نگہ تيز
ميسر ہو کسے ديدار اس کا
کہ ہے وہ رونق محفل کم آميز
تميز خار و گل سے آشکارا
تميز خار و گل سے آشکارا
نسيم صبح کی روشن ضميري
حفاظت پھول کی ممکن نہيں ہے
اگر کانٹے ميں ہو خوئے حريری
نہ کر ذکر فراق و آشنائی
نہ کر ذکر فراق و آشنائی
کہ اصل زندگی ہے خود نمائی
نہ دريا کا زياں ہے، نے گہر کا
دل دريا سے گوہر کی جدائی
تیرے دريا ميں طوفاں کيوں نہيں ہے
تیرے دريا ميں طوفاں کيوں نہيں ہے
خودی تيری مسلماں کيوں نہيں ہے
عبث ہے شکوہ تقدير يزداں
تو خود تقدير يزداں کيوں نہيں ہے
خرد ديکھے اگر دل کی نگہ سے
خرد ديکھے اگر دل کی نگہ سے
جہاں روشن ہے نور 'لا الہ' سے
فقط اک گردش شام و سحر ہے
اگر ديکھيں فروغ مہر و مہ سے
کبھی دريا سے مثل موج ابھر کر
کبھی دريا سے مثل موج ابھر کر
کبھی دريا کے سينے ميں اتر کر
کبھی دريا کے ساحل سے گزر کر
مقام اپنی خودی کا فاش تر کر
ارے چین ایسا کہ ناراض کرے رب کو کیسی راحت
نگا ہ زن تیری راحت، بدن تیری محبت ہے
عجب پالے محبت تو عشق بس نام کی سنگت
عجب عورت تیری بول چاری دیکھی میں نے جگ بھر میں
وصال مرد اچھا نہ ، کر ے کیوں گفتگو الفت
وصال مرد زن گر ہے محبت تو سنو یہ پھر
ملے نہ گر بدن تو رکھے کیوں الفت کی جا نفرت
ہے قال تم فراق تم سے جائے جاں میری ہائے
پریشاں گر ہو محبوب دور نہ کرتے اس کی تم زحمت
محبت خاکؔ طیبؔ یہ پیش خدمت جاں ہو چاہ کے
پیش محبو ب سب کچھ تم کرو گر نہ، نہیں الفت
اُن کی راہوں میں دُعاؤں کی نِشانی رَکھ دِی ۔
جِن کے بَچوں کو دِیا نام، سَہارا، مَنزِل،
اَپنی قِسمَت کی بھی ہَم نے تو گِرانی رَکھ دِی ۔
ہَم دِیّارِ غَیر میں تَنہا ہی لَڑتے رَہ گئے،
اور اُنہوں نے فَقط مَطلَب کی کَہانی رَکھ دِی ۔
گھر بَنایا تھا جِسے سَایۂ اِخلاص سَمجھ،
وَقت آیا تو اُسی گھر نے وِیرانی رَکھ دِی ۔
دَرد اِتنا ہے کہ اَب شِکوَہ بھی مُشکِل لَگتا،
زِندگی نے لَبِ اِظہار پہ پانی رَکھ دِی ۔
مَظہرؔ اِحسان کا بَدلہ نہ سَہی، یاد ہی رَکھ،
کُچھ تو رِشتوں نے وَفادارِی کی نِشانی رَکھ دِی ۔
جِنہیں اَپنا سَمجھا، وُہی یہ کَہہ کے ہَنس دِیے،
حاجی صَاب لُوسدِیاں رَہنا اِیں
بَس اِتنی مِہربانی رَکھ دِی
جو قوم کی خاطر بولا تھا، زِندان میں بیٹھا ہے۔
جس شَخص نے خواب دِکھائے تھے اِک بہتر پاکستان کے،
وہ شَخصِ وَفا آج بھی بے سامان میں بیٹھا ہے۔
جس نے ہر ظُلم کے آگے حَق بات سُنائی لوگوں کو،
وہ اَپنی ہی قوم کے بیچ حَیران میں بیٹھا ہے۔
اِک آنکھ بھی اُس کی جاتی رَہی اِس راہِ سیاسَت میں،
اور شہرِ تمَاشہ خاموشی کی تان میں بیٹھا ہے۔
لوگوں نے فَقط نعروں تک مَحدُود رَکھی چاہت کو،
اِک مَردِ مُجاہد اَب تک زِندان میں بیٹھا ہے۔
گر ایک دَفعہ بھی قوم اُٹھے، دِیواریں ہِل سَکتی ہیں،
وَرنہ ہر خواب یَہاں خوف کے طُوفان میں بیٹھا ہے۔
کتنی ہی عِیدیں گُزر گئیں اُس شَخص پہ تَنہائی میں،
اور ہر بے حِس چہرہ اَپنے ہی اَرمان میں بیٹھا ہے۔
مظہرؔ یہ قِیادت بکنے والی شے تو نہیں ہوتی،
اِک سَچّا لِیڈر آج بھی زِندان میں بیٹھا ہے۔
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا







