رحمت کی برسات ماں حصہ نمبر- ١
Poet: zeeshan By: zeeshan, lahoreجب تو پیدا ہوا کتنا مجبور تھا
یہ جہاں تیری سوچوںسے بھی دور تھا
ہاتھ پاؤں بھی تب تیرے اپنے نہ تھے
تیری آنکھوں میں دنیاں کے سپننے نہ تھے
تجھ کو آتا جو صرف رونا ہی تھا
دودھ پی کے تیراا کام سونا ہی تھا
تجھ کو چلنا سیکھایا تتھا ما نے تیری
تجھ کو دل میں بسیا تھاا ماں نے تیری
ما کے سائے میں پپروان چڑھنے لگا
وقت کے ساتھ قد تیرا بڑھنے لگا
دھیرے دھیرے تو کڑیل جوان ہو گیا
تجھ پہہ سارا جہاں مہرباں ہو گیا
زور بازو پہ تو بات کرنے لگا
خود ہی سجنے لگا خود ہی سورنے لگا
ایک دن اک حسینہ تجھے بھا گئ
بن کے دلہن وہ پھر تیرے گھر آگئ
فرض اپنے سے تو دور ہونے لگا
بیج نفرت کا خود ہی بونے لگا
پھر تو مں باپ کو بھلانے لگا
تیر باتوں کے پھر تو چلانے لگا
بات بے بات ان سے تو لڑنے لگا
قاعدہ اک نیا پھر سے تو پڑھنے گا
ید کر ماں نے تجھ سے کہا تھا ایک دن
اب ہمارا گزارہ نہیں تیرے بن
سنبھال رکھنا میری وفا
ملو گے کب یہ تو بتا دوں
اے بتانے والے دو گا دعا
میری ہے تم سے اک التجا
پکار میری تم نے نہ سنی
دیتا رہا ہو بہت بار صدا
میری تم بن گئیں ہو ضد
لیکن لگتا تم کرو گی جفا
تم مل جاؤ اگر اے جاناں
کیونکہ میری اسی میں بقاء
اتنا یقیں ہو گیا ہے مجھے زیب
اس محبت کی تم دو گی سزا
سنتے بھی ہو کے سماعت سے محروم ہو
پہلے تو چلے آتے تھے کسی بہانے سے
اب تو منہ موڑ کے چلے جاتے ہو
کچھ یو ہی سہی صیح میرے مقدر کا قصور ہے
اب جو آتے بھی ہو اور بغیر ملے چلے جاتے ہو
تم سے مل کر اچھا لگتا تھا زیب
کھبی کھبی بے وفا مقدر کے بہانے یاد آجاتے ہو
عمر میں کچھ روانی تو آنے دیتا۔
مُجھے بات کرنے کا ڈھنگ نہ آیا،
زباں پر کچھ روانی تو آنے دیتا۔
وہ مستقبل کے خوب لئیے چلا گیا،
آخر کوئی بات پرانی تو آنے دیتا۔
اگر سچا ہوتا تو صرف باتیں نہ کرتا،
کبھی اپنی کوئی مہربانی تو آنے دیتا۔
یک دم مسکرا کے چلا گیا وہ شخص،
چہرے پہ کچھ حیرانی تو آنے دیتا۔
اسی انتظار میں مجھ سے دیر ہوئی،
" شمس" ،
محبت کی کوئی نشانی تو آنے دیتا۔






