رخ زلف میں بے نقاب دیکھا
Poet: مصحفی غلام ہمدانی By: Zaid, Islamabadرخ زلف میں بے نقاب دیکھا
میں تیرہ شب آفتاب دیکھا
محروم ہے نامہ دار دنیا
پانی سے تہی حباب دیکھا
سرخی سے ترے لبوں کی ہم نے
آتش کو میان آب دیکھا
قاصد کا سر آیا اس گلی سے
نامے کا مرے جواب دیکھا
جانا یہ ہم نے وفات کے بعد
دیکھا جو جہاں میں خواب دیکھا
آفت کا نشانہ ہو چکا تھا
میں دل کی طرف شتاب دیکھا
اک وضع نہیں مزاج معشوق
گہہ لطف و گہے عتاب دیکھا
آنکھوں سے بہاریں گزریں کیا کیا
کس کس کا نہ میں شباب دیکھا
کل مے کدے میں بغیر ساقی
اوندھا قدح شراب دیکھا
کیں اس نے جفائیں بے حسابی
اک دن نہ کبھو حساب دیکھا
سینے سے نکل پڑا نہ آخر
دل کا مرے اضطراب دیکھا
کیا ہوگی فلاح بعد مردن
جیتے تو سدا عذاب دیکھا
آبادی ہے اس کی مصحفیؔ کم
عالم کے تئیں خراب دیکھا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






