رقصاں ہوں ہواؤں میں
Poet: Shama By: Shama Chaudhry, walesہتھیلی پر دِیا ہے محوِ رقصاں ہوں ہواؤں میں
مجھے پروان چڑھنا ہے قیامت کی فضاؤں میں
چمکتے چاند نے مجھ کو بتاہیں راز باتیں
بہت ٹوٹے ہوئے تارے ملے ہیں کہکشاؤں میں
شکستہ حال ہوں لیکن تیری نظرِ عنایت سے
مہک اٹھتی ہوں مثلِ گل محبت کی اداؤں میں
کبھی تم سے جدا ہو کر سکونِ دل نہیں پایا
عجب تسکین سی ہم کو ملی لیکن سزاؤں میں
بنانا ہے تمہیں گر آشیاں کیوں سوچتے ہو
کئی طوفان ہیں مچلے ہوئے ظالم گھٹاؤں میں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






