رنجشیں اور زمانے سے بڑھا سکتے ہیں
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاوہ مجھے خواب میں ہر روز بلا سکتے ہیں
رنجشیں اور زمانے سے بڑھا سکتے ہیں
زندگی پیار کی خوشبو سے سجا سکتے ہیں
اپنا یہ گھر بھی تو جنت سا بنا سکتے ہیں
زخم پروائی میں رہتے ہیں اگر سبز تو کیا
درد کے ساتھ بھی یہ زیست بتا سکتے ہیں
وہ جو رکھتے تھے مرا روز تماشا جگ میں
ہم بھی قدموں میں انہیں آج جھکا سکتے ہیں
جب امیروں سے نہیں بنتی کہانی اپنی
ہم فقیروں سے تو ہاتھ اپنا ملا سکتے ہیں
درد کے خون میں انگلی تو ڈبو کر دیکھیں
پیار کے ہاتھ پہ مہندی جو لگا سکتے ہیں
آؤ اک بار مرے ہاتھ پہ بوسہ کر دو
وشمہ ہم تیری جدائی بھی بھلا سکتے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






