روتا رہتا ہوں تنہائیوں میں
Poet: IMTIAZ SHARIF IMTIAZ By: RAAZ BHANEWALI, SIALKOTتیرے بچھڑنے کا سوچتا ہوں تو دکھ ہوتا ہے
تیرے گھر کی سمت دیکھتا ہوں تو دکھ ہوتا ہے
جس دن سے ہوا معلوم کہ تم چلے جاؤ گے
سدا پاس رہنے کی دعا مانگتا ہوں تو دکھ ہوتا ہے
اے چاند خدارا چھپ جا کہیں بادلوں کے پیچھے
ہجر یار کے بعد تجھے دیکھتا ہوں تو دکھ ہوتا ہے
تیرے ہجر کے بعد روتا رہتا ہوں تنہائیوں میں
خوش لوگوں میں بیٹھتا ہوں تو دکھ ہوتا ہے
وہ شہر میں تھا تو کبھی وصل ہو جاتا تھا اچانک لیکن
اب اس شہر سے گزرتا ہوں تو دکھ ہوتا ہے
تیرے ہجر کے بعد امتیاز نے شعر کہنا ہی چھوڑ دئیے
تجھ پہ کوئ غزل کہتا ہوں تو دکھ ہوتا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







