رودکی کے وضع کردہ چوبیس اوزان پر چوبیس رباعیاں
Poet: mannan bijnori By: mannan bijnori, mumbai indiaپاس آ کہ زرا غور سے دیکھیں گے تجھے
ہم زاوئیہ اور سےدیکھیں گے تجھے
انداز بدل دیں گے ترے سوچنے کا
اس طور نئے طور سے دیکھیں گے تجھے
پھرتا ہے بھٹک تا ہوا آوارہ خیال
جاتا ہے بڑی دور تلک برق کی چال
پھر آکے تہی دست یہ کہتا ہے مدام
لے ڈوبا مجھے آج بھی جزبوں کا زوال
ہر چہرہ پڑھا اور ٹٹولیں آنکھیں
جو بات زباں پر تھی نہ بولیں آنکھیں
ہر سینے میں کینہ ہے دلوں میں نفرت
منان یہ کس دور میں کھو لیں آنکھیں
کوشش مری بیکار گئ دسیوں بار
نصرت کے نظر آتے نہ تھے کچھ آثار
میں عام سا انسان ہوں لیکن منان
مجھکو بھی ہوئ فتح نصیب آ خر کار
تہذ یب و تمدن کا قائل ہی نہیں
بد نطق بھی ہے بد خو جاہل ہی نہیں
منھ اس کے میں کیا لگتا خاموش رہا
وہ بات سمجھنے کے قابل ہی نہیں
ہم خوب سمجھتے ہیں انکار کی چال
پڑھ لیتے ہیں چہروں کو اے زہرہ جمال
اور ایسا نہیں ہے تو اک بار یہ بات
جو منھ سے نکالی ہے آنکھوں سے نکال
آوار گیو ہم سے دوری رکھو
تھوڑی سی نہیں بلکہ پوری رکھو
ہم نکہتِ بیگانا سے نالاں ہیں
ملنا ہے ہمیں تو کستوری رکھو
خونخوار درندے تو بن کا بن سیکھ
رہنا ہے جو آگے تو شہری فن سیکھ
رکھ اپنا بھرم کیوں ہے پیچھے نادان
اس دور کے انساں سے جنگلی پن سیکھ
الفاظ کی روشنی خیالات کا نور
کرتے ہیں عطا کلام کو شکلِ ظہور
جذ بوں کی صنم گری فصاحت کا جمال
معراجِ سخن وراں کمالاتِ شعور
لہجے پہ سخن شناس قربان گئے
پختہ ہے ترا کلام سب مان گئے
جس دن سے رباعیاں تری ہمنے پڑھیں
منان خدا قسم تجھے مان گئے
بے فیض تعلیات سے ناطہ توڑ
رخ اپنے تخیلات کا کچھ تو موڑ
قاری ہوں قدیم کب تلک تجھے جھیلوں بول
شاعر، نئے قارئین سے رشطہ جوڑ
اک جھوٹ چلا تھا جھوٹ سب چپ چپ تھے
آپس میں پڑی تھی پھوٹ سب چپ چپ تھے
پاداش میں ان خموشیوں کی آخر
اک لوٹ مچی تھی لوٹ سب چپ چپ تھے
ارے چین ایسا کہ ناراض کرے رب کو کیسی راحت
نگا ہ زن تیری راحت، بدن تیری محبت ہے
عجب پالے محبت تو عشق بس نام کی سنگت
عجب عورت تیری بول چاری دیکھی میں نے جگ بھر میں
وصال مرد اچھا نہ ، کر ے کیوں گفتگو الفت
وصال مرد زن گر ہے محبت تو سنو یہ پھر
ملے نہ گر بدن تو رکھے کیوں الفت کی جا نفرت
ہے قال تم فراق تم سے جائے جاں میری ہائے
پریشاں گر ہو محبوب دور نہ کرتے اس کی تم زحمت
محبت خاکؔ طیبؔ یہ پیش خدمت جاں ہو چاہ کے
پیش محبو ب سب کچھ تم کرو گر نہ، نہیں الفت
اُن کی راہوں میں دُعاؤں کی نِشانی رَکھ دِی ۔
جِن کے بَچوں کو دِیا نام، سَہارا، مَنزِل،
اَپنی قِسمَت کی بھی ہَم نے تو گِرانی رَکھ دِی ۔
ہَم دِیّارِ غَیر میں تَنہا ہی لَڑتے رَہ گئے،
اور اُنہوں نے فَقط مَطلَب کی کَہانی رَکھ دِی ۔
گھر بَنایا تھا جِسے سَایۂ اِخلاص سَمجھ،
وَقت آیا تو اُسی گھر نے وِیرانی رَکھ دِی ۔
دَرد اِتنا ہے کہ اَب شِکوَہ بھی مُشکِل لَگتا،
زِندگی نے لَبِ اِظہار پہ پانی رَکھ دِی ۔
مَظہرؔ اِحسان کا بَدلہ نہ سَہی، یاد ہی رَکھ،
کُچھ تو رِشتوں نے وَفادارِی کی نِشانی رَکھ دِی ۔
جِنہیں اَپنا سَمجھا، وُہی یہ کَہہ کے ہَنس دِیے،
حاجی صَاب لُوسدِیاں رَہنا اِیں
بَس اِتنی مِہربانی رَکھ دِی
جو قوم کی خاطر بولا تھا، زِندان میں بیٹھا ہے۔
جس شَخص نے خواب دِکھائے تھے اِک بہتر پاکستان کے،
وہ شَخصِ وَفا آج بھی بے سامان میں بیٹھا ہے۔
جس نے ہر ظُلم کے آگے حَق بات سُنائی لوگوں کو،
وہ اَپنی ہی قوم کے بیچ حَیران میں بیٹھا ہے۔
اِک آنکھ بھی اُس کی جاتی رَہی اِس راہِ سیاسَت میں،
اور شہرِ تمَاشہ خاموشی کی تان میں بیٹھا ہے۔
لوگوں نے فَقط نعروں تک مَحدُود رَکھی چاہت کو،
اِک مَردِ مُجاہد اَب تک زِندان میں بیٹھا ہے۔
گر ایک دَفعہ بھی قوم اُٹھے، دِیواریں ہِل سَکتی ہیں،
وَرنہ ہر خواب یَہاں خوف کے طُوفان میں بیٹھا ہے۔
کتنی ہی عِیدیں گُزر گئیں اُس شَخص پہ تَنہائی میں،
اور ہر بے حِس چہرہ اَپنے ہی اَرمان میں بیٹھا ہے۔
مظہرؔ یہ قِیادت بکنے والی شے تو نہیں ہوتی،
اِک سَچّا لِیڈر آج بھی زِندان میں بیٹھا ہے۔
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا






