روز شام کو اُداسیاں بڑھ جاتی ہیں
Poet: NEHAL GILL By: NEHAL, Gujranwalaروز شام کو اُداسیاں بڑھ جاتی ہیں
دل پے میرے نیا زخم کر جاتی ہیں
اِس قدر فریب ملے میری وفائوں کو
اب وفائیں وفا کے نام سے ڈر جاتی ہیں
میرے ہوتے ہوئے میری قدر نہ پائی اُس نے
سُنا ہے اب وہ روز میرے گھر جاتی ہیں
بتاتا ہے اِک فرشتی مجھے روز یہی باتیں
اِک حسین لڑکی تیری قبر پر آتی ہیں
رو پڑتی تھی میری آنکھ میں آنسو دیکھ کر
وہ پل یاد آتے ہی آنکھ بھر جاتی ہیں
عقلیں حیران ہے یا میرے رب
زندگیاں کہاں سے آ کے کس نگر جاتی ہیں
میرے ہم قلم نگاروں صرف اتنا بتا دو نہال کو
کس کی کمی انسان کو شاعر کر جاتی ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






