روٹھ جاتی ہیں دعائیں تو عذاب آتا ہے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاروٹھ جاتی ہیں دعائیں تو عذاب آتا ہے
دل کی آنکھوں میں محبت کا چناب آتا ہے
میں بھی خوشبو کے تقدس کو لئے بیٹھی ہوں
لے کے وہ بھی یہاں چاہت کا گلاب آتا ہے
صبح کی آنکھ سے دریا و سمندر لے کر
میرے احساس کی چوکھٹ پہ سراب آتا ہے
میں نے" میسج" میں محبت کو محبت لکھ دی
جس کا بدلے میں محبت ہی جواب آتا ہے
ایک ہی موڑ پہ مٹ جاتا ہے نقشہ دل کا
شہر زندان میں ایسا بھی تو باب آتا ہے
میرا گلشن ہے وفاؤں کا بسیرا وشمہ
تجھ سے جو آنکھ ملاؤں تو شباب آتا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






