روٹھ جانے سے کبھی ملتا نہیں کچھ
Poet: ثناءبنتِ زمان By: sanabintezaman, Abbottabadکئی سال پرکھنے سے یہ ادراک ہوا ہے
روٹھ جانے سے کبھی ملتا نہیں کچھ
چاہئے بس ذرا سا بغض کا تڑکہ
خون کو سفید کرنے میں
غلط فہمی جو بڑھ جاۓ
صدیاں بیت جاتی ہیں
دوریاں مٹانے میں
انمول رشتے جو عطا کیے رب نے
بےمول کردیا انہیں چند لفظوں نے
وقت کا پہیہ آگے بڑھ رہا ہے
موت کی جانب زمانٓ
پھر جب دامن اپنا لگے چھوٹا
پچھتاوا زہر بن کر مار دیتا ہے
ہاں سچ میں جان لیتا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






