رویا ہے رات بھر
Poet: R.K Jazeb By: R.K Jazeb, Jeddahآنسوؤں کے چراغ میں دل اپنا ڈبویا ہے رات بھر
رو رو کے ہم نے اشکوں سے تکیہ بھگویا ہے رات بھر
اسکو میری بے تابیوں کی خبر ناں ہو سکی
تڑپا کے مجھ کو خود سکوں سے سویا ہے رات بھر
دیکھ کر اپنا چہرہ آئینے میں وہ حیران رہ گیا
مل ناں سکا وہ عکس اسے جو کھویا ہے رات بھر
اپنے ہی کھودے گڑھے میں وہ گرتا چلا گیا
ملا ہے اسے پھل وہی جو بویا ہے رات بھر
بس وہ ایک شخص تھا جسے جاذب کے مرنے کا تھا غم
جلا کے اسکی قبر پے دیا جو رویا ہے رات بھر
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







