رَنگ چہرے کا بدل جاتا ہے
Poet: محمد اَرباب بزمی By: Arbab Bazmi, More Eminabad GUJRANWALAرَنگ چہرے کا بدل جاتا ہے
لِکھتا وہ غزل جاتا ہے
اپنے پرائے بَن جاتے ہیں
مطلب جب بھی نِکل جاتا ہے
دائم ایک نہیں رہتا ہے
’’سب کا وقت بدل جاتا ہے‘‘
ملتی ہے جب کوئی خوشی تو
دِل دَریا جَل تھَل جاتا ہے
دیکھ کے سوہنا حُسن ترا یہ
دِل بیتاب مچل جاتا ہے
جیون کا غم سہتے سہتے
ہر انسان سنبھل جاتا ہے
اُس کے وعدے پر اے بزمی
آس کا سورج ڈھل جاتا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






