رُت بدل گئی
Poet: Syed Zulfiqar Haider By: Syed Zulfiqar Haider, Dist. Gujranwala ; Nizwa, Omanرُت بدل گئی وہ بکھری خوشیاں اب کہاں
کھلتے چہرے وہ معصوم شرارتیں اب کہاں
مل کے گزرے ہیں جو حسین پل بھول سکتے نہیں
نازنین ادایئں وہ اُڑتا آنچل اب کہاں
بے غرض محبت تھی ٹمٹما رہی تھی روشنی بھی
تیری بکھری زلفیں وہ جامِ محبت اب کہاں
اک ساتھ گزارے کس قدر حسین لمحات ہم نے
چمکتی آنکھیں متزلزل پاوَں اب کہاں
مل کر بسر کرتے تھے ہم اپنا سارا وقت
بیتی حسین راتیں وہ بکھرے ارمان اب کہاں
گھنٹوں میرے خیالوں میں کھوئے رہتے تھے اب جو انجان ہیں
میرا انتظار کرنا وہ اضطراب کی سی کیفیت اب کہاں
جب اپنے بدل گئے اوروں سے کیا شکوہ کرنا
پیار بھری باتیں وہ محبوب کے وعدے اب کہاں
وہ ہی چلے گئے جن سے تھیں وابستہ خوشیاں میری
پیار بھرے نغمے شرما کر مجھ سے لپٹ جانا اب کہاں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






