رکھ دیا توڑ کے جیسے کوئی تارا ہوگا
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیارات آنسو کو تری آنکھ میں دیکھا ہوگا
رکھ دیا توڑ کے جیسے کوئی تارا ہوگا
گمشدہ جسم ملے حلقۂ بازو جاگے
شام سے اوڑھ لیا آج سویرا ہوگا
غم میں خوش رہتے ہیں ہر سایۂ قربت سے دور
اب بدل ڈالا مزاج اہل وفا کا ہوگا
اوس میں مہکی ہوئی رات کے پونچھے آنسو
صبح کو دے دیا ہنستا ہوا چہرا ہوگا
ختم خوش فہمئ سیرابی ہوئی ہونٹوں تک
آنکھ سے دیکھا ہے پیاسا کوئی دریا ہوگا
چکھ لیا جذبۂ وارفتہ نے اک رنگ حیات
کر لیا اپنے لب سادہ کو اچھا ہوگا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






