رہتا نہیں آہ و فغاں سے میرا دہن بند
Poet: فہد مشتاق فہد By: Fahad Mushtaq Fahad, Sadiqabadرہتا نہیں آہ و فغاں سے میرا دہن بند
کہ دل میں مِرے ہیں جہاں کے رنج و محن بند
اچھے نہیں لگتے ہو مجھے اس طرح سے تم
یہ کہہ کے کِیا اس نے گریباں کا بٹن بند
دیکھو کبھی جلوہ رخِ پُر نورِ یار کا
لگتا ہے کہ کوزے میں ہے سورج کی کرن بند
تعذیر دیکھنے کو کوئ اور رہ گئ
رضواں نے مجھ پہ کر دیا کیوں بابِ عدن بند
عالم تھا نفسا نفسی کا پھر تم جو آ گۓ
لگتا ہے مجھے شورشِ محشر میں امن بند
ہوتے ہو تم جہاں جہاں آتی ہے وہاں بھی
گلشن میں ہی نہیں ہے صرف مشکِ سمن بند
پوچھو نہ آرزو دلِ خانہ خراب کی
جیسے ہو قبر میں کسی انساں کا بدن بند
سب دیکھ کے اس کو مجھے کہتے ہیں فہد ہے
تیری غزل میں نوح کا اندازِ سخن بند
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






