رہنے دو
Poet: شفق By: Shafaq, Lahoreیہ جو فاصلے ہیں ہمارے بیچ انہں رہنے دو
بات جہاں پر رکی ہے رکی رہنے دو
روک لو اپنے قدموں کو وہیں پر
ارمان دل کے دل میں رہنے دو
جو تم آگے بڑھے تو ہم بھی نہ رکیں گے
ہر حد ہو جاے گی ختم اور سوال اٹھیں گے
ہم میں نہیں حوصلہ کہ جواب دیں سکیں
اپنےتمہارے رشتے کو نام دیں سکیں
یہ دنیا نہیں اتنی بھلی کہ سب سمجھ جاے
دو پیار کرے والوں کو ملائے
آج تک سبھی عشق زادوں کے قصے عام ہوئے ہیں
کب کسی کو لیلہ ملی اور کب سسی پنوں ساتھ ہوئے ہیں
پتھر کے ہیں یہ لوگ اور چٹان سا ہے زمانہ
ان کے ہوتے کب دو دل ساتھ ہوئے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







