رہنے لگی ہے اب مری آنکھوں میں روشنی
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاراتوں کو جاگنے کا تقاضہ نہ کر ابھی
میری طرح ابھی سے اندھیرا نہ کر ابھی
خود کو بچا کے چلتی رہی میں بھی عمر بھر
آیا ہے ایک ایسا نظارہ نہ کر ابھی
رہنے لگی ہے اب مری آنکھوں میں روشنی
جیسے کوئی چمکتا ستارہ نہ کر ابھی
آنکھوں کے بعد جب یہ مرا دل بجھ گیا
اشکوں کا بہہ گیا کوئی دھارا نہ کر ابھی
سورج زمیں سے آسماں سے چاند آگیا
جب روشنی کو میں نے پکارا نہ کر ابھی
ہر سمت ہے بہارمری رہگزر میں آج
خوشبو کا زندگی میں اندھیرا نہ کر ابھی
پھیلے ہیں اس قدر تری یادوں کے سلسلے
مت چھیڑ مجھ کو آج کہ گریہ نہ کر ابھی
ڈھلتے ہی شام یاد کی وہ آندھیوں کے ساتھ
شاہد کہ آ ہی جائے اندھیرا نہ کر ابھی
جسکے لبوں پہ پھر کبھی غنچے نہیں کھلے
وشمہ کو مار ڈال تو سایہ نہ کر ابھی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






