رہینِ حسرت و حرمان و یاس میں بھی ہوا
Poet: Arif Husain Arif By: Qasim Raza, Faisalabadرہینِ حسرت و حرمان و یاس میں بھی ہوا
وہ بے مزا تو ہوا، بد حواس میں بھی ہوا
کبھی کبھی مجھے دریا نے تشنگی بخشی
کبھی کبھی کسی صحرا کی پیاس میں بھی ہوا
تلا شنا ! جو فراغت ملے جہاں سے تمہیں
پکارنا ! جو کہیں آس پاس میں بھی ہوا
میرے لیے نہ کوئی آنکھ اشک بار ہوئی
تیرے لیے تو زمانے اداس میں بھی ہوا
وفا کے روپ میں ملتی رہی جفا مجھ کو
یوں دوستوں کا طبیعت شناس میں بھی ہوا
میری طرح سے شکارِ ستم ہوا تو بھی
تِیری طرح سے دریدہ لباس میں بھی ہوا
سخن سخن تیری یادوں نے تازگی بخشی
قدم قدم تیرے گلشن کی باس میں بھی ہوا
ملے جو سارے زمانے کے غم مجھے عارف
کچھ اس طرح سے حقیقت شناس میں بھی ہوا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






