رہے تھے مانگتے جس کو ہم اک دعا کی طرح
Poet: میم الف ارشیؔ By: Muhammad Arshad Qureshi, Karachiرہے تھے مانگتے جس کو ہم اک دعا کی طرح
ہمارے ساتھ رہا وہ مگر سزا کی طرح
ہمارے نام جو اس نے لکھا تھا پہلا خط
ہمیں تو درد میں بھی وہ ملا شفا کی طرح
وہ ایک بات جو ہم نے کبھی کہی ہی نہیں
تمام شہر میں پھیلی ہے کیوں وبا کی طرح
عذاب عشق میں ہم نے بہت سے جھیلے ہیں
خدا کرے نہ ملے کوئی بے وفا کی طرح
کبھی تجھے بھی ضرورت پڑے دعاؤں کی
میں پھر رہا ہوں ترے شہر میں گدا کی طرح
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






